Adnan Mirza Official

Smart ideas for a digital world.

Sunday, February 9, 2025

Afghanistan-Pakistan Border Conflict: The Legacy of the Durand Line

 

یہ ایک لکیر ہے جو صرف زمین پر نہیں کھینچیں گے بلکہ یہ خاندانوں قوموں اور تاریخ کو بھی تقسیم کر گئی ایک لکیر جو حطہ زمین کو نہیں بلکہ پوری تاریخ کو دو حصوں میں بانٹ دیتی ہے یہ ہے ڈیوٹرن لائن

یہ وہ سرزمین ہے جہاں صدیوں سے پشتون اور بلوچ قبائل اباد ہیں تاریخی شواہد کے مطابق کم از کم 500 سال قبل از مسیح سے یہاں پشتون قبائل کا بسیرا رہا ہے یونانی مورخ ہیرو ریٹس نے بکتین نامی ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو آرا خوسیا موجودہ جنوبی افغانستان میں اباد تھے جبکہ بلوچ قبائل اس لکیر کے جنوبی کنارے پر رہائش پذیر تھے جو اج کی افغانستان میں واقع ہے

ساتویں صدی میں عرب مسلمان اس علاقے میں ائے اور اسلام کو یہاں متعارف کروایا کچھ عرب یہاں سلیمان پہاڑوں میں اباد بھی ہو گئے وقت کے ساتھ یہ پشتون جنہیں تاریکی طور پر افغان کہا جاتا ہے دسویں صدی کے عربی تاریخی حوالوں میں بھی مذکور پائے گئے یہ علاقہ پشتونستان کہلایا جو بعد میں غزنوی غوری تیموری مغل دورانی اور سکھ سلطنتوں کے زیر اثر رہا

1839 میں برطانوی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا مگر 1842 میں انہیں ذلت ہمیشہ کا سامنا کرنا پڑا مگر برطانیہ نے ہار نہیں مانی 1878 میں وہ دوبارہ لوٹے اور اس بار انہوں نے اپنا حمایت یافتہ حکمران امیر عبدالرحمن خان کو تخت پر بٹھا دیا

1893 میں برطانوی سفارت کار سر مورٹیمیر ڈیورنڈ کے قابل پہنچنے کا مقصد تھا ایک لکیر کھینچنا تھا جو برطانوی ہندوستان اور افغانستان کو علیحدہ کرے افغان حکمران کے پاس زیادہ اپشن نہیں تھے اور یوں ڈیورنڈ لائن وجود میں ائی یہ صرف ایک معاہدہ نہیں تھا بلکہ یہ پشتونوں کے دلوں پر لگا ایک ایسا زخم تھا جو اج بھی نہیں بھرا

ڈیورنڈ لائن کی حد بندی 1300 کلومیٹر یعنی 800 میل پر محیط تھی 1894 سے 1896 کے درمیان مکمل ہوئی

ڈیورنڈ لائن دنیا کے سب سے بڑے اور بلند پہاڑی سلسلوں جیسے ہندوکش اور کراکرم کے درمیان سے گزرتی ہے اس سرحدی علاقے میں بلند و بالا پہاڑ ویران صحرا شامل ہیں جو اسے نہ صرف جغرافیائی طور پر پچیدہ بناتے ہیں بلکہ سیاسی اور تاریخی طور پر بھی ایک احساس موضوع ہے یہ سرحد 1893 میں برطانوی نو ابادیاتی دور کے دوران طے کی گئی اور تب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازات کا باعث بنی ہوئی ہے
ڈیورنڈ لائن کا مغربی حصہ جو ریگستانی صحرا سے گزرتا ہے سطح سمندر سے کم بلند ہے لیکن جیسے ہی سرحد مشرق کی طرف بڑھتی ہے یہ بلند پہاڑوں کی موجودگی میں بدل جاتی ہے وائٹ ماؤنٹینز کا سلسلہ تقریبا اس لائن کے وسط میں واقع ہے مشرقی احتتام پر جہاں چین کی سرحد ہے کرا کرم پہاڑوں کا سلسلہ موجود ہے پہاڑوں میں سے بلند ترین چوٹی نوشاک سرحد کے دونوں طرف واقع ہے جبکہ پاکستان کے علاقے کے مشرقی حصے میں دنیا کی کچھ بلند ترین چوٹیاں جیسے کے ٹو موجود ہیں اس سرحد کے ساتھ ساتھ دریا جیسے کنہار کابل کرم اور گومل دریا گزرتے ہیں جو خطے کی زرخیزی کو ظاہر کرتے ہیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف سرحدی گزرگاہیں اہم تجارتی راستے ہیں، جن میں تورخم اور خیبر پاس خاص طور پر اہم ہیں۔ یہ گزرگاہیں وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان اہم تجارتی روابط فراہم کرتی ہیں۔
ڈیورنڈ لائن کے ساتھ افغانستان کے بارہ صوبے واقع ہیں: نمروز، ہلمند، قندھار، زابل، پکتیکا، خوست، لوگر، ننگرہار، کونار، نورستان اور بدخشاں۔شامل ہیں
جبکہ پاکستان کے خیبر پختونخواہ، بلوچستان، اور گلگت بلتستان کے علاقے بھی اس سرحدی لائن سے ملتے ہیں۔
ڈیورنڈ لائن کے سیاسی اثرات نے وقت کے ساتھ ساتھ سنگین صورت اختیار کیں۔ 1980 کی دہائی میں، جب افغان جنگ جاری تھی، پاکستان نے امریکی سی آئی اے کی مدد سے افغان مجاہدین کو تربیت دینے اور انہیں افغانستان بھیجنے کا عمل شروع کیا۔
1992 میں جب افغان حکومت کا خاتمہ ہوا، پاکستان نے افغانستان میں ایک کٹھ پتلی ریاست بنانے کی کوشش کی، مگر طالبان کی حکومت نے اس سرحد کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور کہا کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے۔ طالبان کے اس ردعمل کے بعد، افغانستان نے بھی ڈیورنڈ لائن کو اپنی بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
آج بھی افغانستان کی موجودہ حکومت ڈیورنڈ لائن کو اپنے بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کرتی، اور 1947 سے اب تک کوئی بھی افغان حکومت نے اسے سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
برطانوی راج کے ماہرین اور افغان حکام نے کئی مقامات پر نقشہ سازی کی اور سرحدی ستون نصب کی ہے یہ سرحد افغانستان کو ایک مستقل طور پر جکڑنے کی کوشش تھی لیکن اس کے اثرات مستقبل میں ایک تنازع کی صورت میں ظاہر ہوئے
اس کے فورا بعد برطانوی حکومت نے ریلوے لائنیں بچھا کر اپنے زیر انتظام علاقے کو ہندوستان کے ساتھ جوڑ دیا
1870 کی دہائی میں پشاور اور جلال اباد کے درمیان تنازعات اتنے شدید ہو گئے کہ نقل و حرکت تقریبا ناممکن ہو گئی اس کے فورا بعد برطانوی فوج میں ہزاروں پشتون بھرتی کیے گئے اور ان کو ہندوستان جنوب مشرقی ایشیا میں تعینات کیا گیا اسی دوران پشتون دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے کچھ پشتونوں نے ہندوستان کے مسلم علاقوں کی طرف رخ کیا اور برطانوی ہندوستان سے قریبی تعلقات قائم کر لیے کچھ نئے افغانستان کے ساتھ دوبارہ اتحاد کا خواب دیکھا جبکہ کچھ نے متحدہ ہندوستان میں رہنے کو بہتر سمجھا
افغانستان نے کبھی ڈیو رنڈ لائن کو قبول نہیں کیا
1947 میں افغانستان نے پاکستان کے وجود میں انے کے بعد بھی اس سرحد کو چیلنج کیا
1979 میں سوویت ہملے کے بعد سرحدی علاقوں میں روسی امریکی اور پاکستانی اثرات کی جنگ چھڑ گئی
2001 کے بعد طالبان اور دیگر گروہ اس سرحد کو عبور کر کے کاروائیاں کرتے رہے جس سے پاکستان افغانستان تعلقات مزید خراب ہوئے

یہ سرحد ایک خطرناک خطہ بن چکی ہے۔ یہاں سے اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، اور دہشت گردوں کی آمد و رفت عام بات ہے۔ 2011 میں 500 سے زائد طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے علاقے دیر میں داخل ہو کر کئی پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا۔

دونوں حکومتیں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس سرحد پر اسلحہ، منشیات، قیمتی پتھر، اور گاڑیوں کی اسمگلنگ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، جسے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد قرضئی نے کہا یہ نفرت کی ایک لکیر ہے جو دو بھائیوں کے درمیان کھڑی کر دی گئی ہے اج بھی افغانستان کے کچھ گروہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کو افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ پاکستان کے لیے یہ ایک بین الاقوامی سرحد ہے جسے دنیا کے تمام ممالک تسلیم کرتے ہیں
ڈیورنڈ لائن صرف ایک جغرافیائی حد نہیں، بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو ابھی تک بھرا نہیں
۔ یہ کہانی صرف دو ملکوں کی نہیں، بلکہ ان لاکھوں پشتونوں، بلوچوں، اور قبائلی عوام کی بھی ہے، جو اس لکیر کے دونوں طرف بستے ہیں، مگر کبھی دل سے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔

📍 کیا کبھی افغانستان اور پاکستان اس سرحدی تنازع کو حل کر سکیں گے؟ یا یہ تنازع یونہی نسل در نسل چلتا رہے گا؟


No comments:

Post a Comment

© 2026 adnanmirza103.blogspot.com. All Rights Reserved.