اوپن ارٹیفیشل انٹیلیجنس میں برسوں کی تحقیق اور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری سے چیٹ جے پی ٹی کو اس نہج پر پہنچایا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی اس کے مقابلے کا ماڈل بنانے کا سوچ بھی نہ سکتا تھا ایک ایسا ماڈل تھا جو جدید ترین چپس پہ چلتا ہے جسے بڑی طاقتور امریکی کمپنیز کی پشت پناہی حاصل تھی اور جس کا ہر اپڈیٹ گویا ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلاب لے اتا تھا مائکروسافٹ گوگل اینڈ ویڈیا اور دیگر بڑی امریکی کمپنیز اسے مزید بہتر بنانے کے لیے بے تحاشہ دولت بہا رہی تھی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ مستقبل کا سکندر وہی ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ ذہین ارٹیفیشل انٹیلیجنس ہوگی
لیکن پھر چین سے ایک نام ابھرا ایک ایسا نام جسے پہلے کوئی جانتا تک نہ تھا ڈیپ سیک یہ ایک سٹارٹ اپ تھا
چھوٹا مگر انتہائی خطرناک اس کے بانی لیونگ بینفنگ
ایک خاموش مگر انتہائی ذہین شخص تھے جس نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک ایسا خطرناک ہتھیار تیار کر لیا تھا جس کی قیمت چیٹ جی پی ٹی کے مقابلے میں نہایت کم تھی حیران کن بات یہ تھی کہ ماڈل زیادہ مہنگی چپس پر نہیں بلکہ عام اور سستی چپس پر چلتا تھا اور اس کی لاگت صرف صرف چھ ملین ڈالر تھی لوگ حیران تھے ششدر تھے یہ کیسے ممکن ہوا امریکہ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی وال سٹریٹ میں ہلچل مچ گئی اینو ویڈیا کے شیئرز گرنے لگے براڈ کوم اور الفابیٹ جیسے بڑے ادارے نقصان اٹھانے لگے سب حیران تھے کہ چین جسے جدید چپ سے محروم کر دیا گیا تھا اس نے ارٹیفیشل انٹیلیجنس میں اتنی بڑی چھلانگ کیسے لگا دی اس کے پیچھے ایک چال تھی ایک ایسا منصوبہ جس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا لیونگ وانفن نے ہزاروں پرانی چپس کو کم قیمت والے نئے ماڈول سے جوڑ کے ڈیپ سیکھ کو جنم دے دیا یہ ماڈل نہ صرف چیٹ جی پی ٹی کی طرح ذہین تھا بلکہ اس کا حساب کوڈنگ اور منطق میں مظاہرہ حیرت انگیز تھا امریکہ میں چیٹ جی پی ٹی کے حمایتی اس پیشرفت کو روکنے کے لیے متحرک ہو گئے
سلیکون ویلی میں صف ماتم بچھ گیا سرمایہ کار حیران و پریشان تھے کہ ان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا کیا ہوگا دوسری طرف چین میں جشن منایا جا رہا ہے یہ محض ایک سافٹ وئر نہیں ہے یہ مغرب کی اجارہ داری کے خلاف ایک اعلان بغاوت تھا ڈیپ سیک ایک ایسا ماڈل تھا جسے کوئی بھی مفت میں استعمال کر سکتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتا ہے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتا ہے یہ جنگ محض ماڈلز کے درمیان نہیں ہے بلکہ دو طاقتوں کے درمیان ہے
ایک طرف چیٹ جی پی ٹی ہے جو جدید ترین چیپس اور مغربی سرمایہ داروں کے سہارے کھڑا ہے دوسری طرف ڈیپ سیکھ ہے جو کم لاگت اسان رسائی اور چینی ذہانت کا ایک ایسی شاندار تخلیق جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا اب سوال یہ نہیں ہے کہ کون جیتے گا سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں طاقت کا توازن کب اور کیسے بدلے گا کیا مغرب اپنی برتری برقرار رکھ سکے گا یا ڈیپ سیکھ جیسی تخلیقات ایک نئے دور کا اغاز کریں گی جہاں طاقت اور ذہانت صرف ان کے پاس نہیں ہوگی جو زیادہ پیسہ خرچ کر سکتے ہیں بلکہ ان کے پاس بھی ہوگی جو زیادہ ذہین چالیں چل سکتے ہیں
چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیٹ دونوں ایپس میں جو بنیادی فرق ہے وہ ان کے ماڈلز اور کارکردگی میں پایا جاتا ہے اور یہ فرق انہیں اپنی نوعیت میں مختلف بنا دیتا ہے چیٹ جی پی ٹی ایک جدید اور طاقتور ماڈل ہے جو اوپن اے ائی نے تیار کیا اس ماڈل کو چلانے کے لیے جدید چپس اور بڑے ڈیٹا سیٹس کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے انتہائی مضبوط اور پیچیدہ بناتے ہیں چیٹ جی پی ٹی کا مقصد زبان کی پروسیسنگ تخلیقی تحریر اور مختلف پیچیدہ کاموں میں مہارت حاصل کرنا اس کی کارکردگی بہترین ہے اور یہ پیچیدہ سوالات کے جوابات دینے اور انسانوں کی طرح بات کرنے میں بہت موثر ہے لیکن اس کی طاقت اور کارکردگی نتیجے میں اس کی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے اور اسے چلانے کے لیے زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت پڑتی ہے دوسری جانب ڈیپ سیک ایک نیا اور سستا ماڈل ہے جو اوپن سورس ٹیکنالوجی اور کم لاگت والی چپس پر مبنی ہے ڈیپ سیکھ نے کم خرچ اور کم کمپیوٹر پار کی مدد سے اپنے ماڈل کی کارکردگی کو بہتر بنایا جو اسے ایک دلچسپ متبادل بناتا ہے اس کا ماڈل اگرچہ چیٹ جی پی ٹی کی طرح پیچیدہ نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ مختلف کاموں میں بہت اچھا کام کرتا ہے جیسے ریاضی کی کوڈنگ اور قدرتی زبان کی سمجھ میں ڈیپ سیگ زبردست ہے اور اس کی بنیادی تکنیکی مہارت بھی متاثر کن ہے دونوں ماڈلز کی کارکردگی میں فرق اس بات کے اوپر منحصر ہے کہ چیٹ جی پی ٹی زیادہ طاقتور اور پیچید ماڈل ہے اور دوسرا زیادہ سستا اور قابل رسائی ہے
چیٹ جی پی ٹی کے پاس بڑی کمپیوٹنگ پار ہے اور جدید چپس ہے جو اسے عالمی سطح پر ایک مضبوط کھلاڑی بناتی ہے لیکن ڈیپ سیک کم خرچ میں اسی طرح کی کارکردگی فراہم کر کے ایک نیا مقام حاصل کر چکا ہے
ڈیپ سیک کا مثبت استعمال اسے ایک طرف سستے اور موثر حل کے طور پہ دیکھنے کی طرف مائل کرتا ہے خاص طور پہ ان افراد یا کمپنیز کے لیے جو محدود وسائل رکھتے ہیں اس کی کم لاگت اور اوپن سورس اسے دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں استعمال کے قابل بناتا ہے
یہ تعلیمی اداروں میں تحقیق، کاروبار کے اندر خود کار سروسز مختلف ایپلیکیشنز میں پروسیسنگ کی رفتار بڑھانے کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کا منفی پہلو یہ ہو سکتا ہے چونکہ اس میں تکنیکی پیچیدگیاں کم ہیں اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے محنت کی ضرورت ہے اس لیے کبھی کبھار اس کا استعمال محدود ہو سکتا ہے یا اس سے توقع کے مطابق نتائج نہیں مل سکتے چیٹ جی پی ٹی کا مثبت استعمال خاص طور پر زبان کی پروسیسنگ تخلیقی تحریر اور تعلیمی مواد کی تیاری میں انتہائی موثر ہے یہ ایسے کاموں کے لیے بہترین ہے جہاں پیچیدہ سوالات محنت طلب تخلیقی تحریر یا قدرتی زبان کی گہری تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے کاروبار میں کسٹمر سروس مواد کی تخلیق کے لیے اس کا استعمال بھی قابل قدر ہے اور اس کی منفی پہلو یہ ہے کہ اس کا زیادہ استعمال اتنا پیچیدہ ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار غیر ضروری غلط معلومات پیدا کر سکتا ہے جس کی وجہ سے اس پر انحصار کی حدود بڑھ جاتی اس کی لاگت اور کمپیوٹنگ پار کی زیادہ ضرورت بھی ایک مسئلہ ہے خاص طور پہ جب چھوٹے یا کم وسائل والے ادارے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں چیٹ جی پی ٹی ایڈوانس ہونے کے بعد مزید پیچیدہ زبانوں کو سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا جب یہ مزید اپڈیٹ ہوتا رہے گا اس کا مقصد زیادہ گہرے تجزیے پیچیدہ سوالات کے جوابات دینا مخصوص شعبوں میں مواد کی تخلیق کرنا یہ یہ خود کار ترجمے تحقیق میں معاونت قدرتی زبان کے سوالات کے جوابات دینے میں مزید مہارت حاصل کرے گا اس کے علاوہ چیٹ جی پی ٹی کی جدید شکل انسانوں کے ساتھ زیادہ قدرتی اور معنی خیز بات چیت کرنے کے قابل ہوگی اور کاروباری تعلیمی اور تخلیقی شعبوں میں اس کا استعمال زیادہ موثر اور کم لاگت والے اے ائی سسٹمز کی تیاری پہ فوکس کرے گا وہ تکنیکی اعتبار سے زیادہ فنی اور جدید ماڈلز پیش کرے گا جنہیں کم توانائی میں چلایا جا سکے اور ڈیپ سیک کا ہدف مزید خود مختار سسٹمز کی تخلیق اور اوپن سورس پلیٹ فارم فراہم کرنا ہوگا تاکہ دنیا بھر میں افراد اور کمپنیز کو اپنے کاموں میں مدد فراہم کی جا سکے وہ اپنے ماڈلز کو ایسی ایپلیکیشنز میں استعمال کرے گا جو کم لاگت اور تیز کارکردگی کے حامل ہوں اس کی ترقی عالمی سطح پر کم قیمت اور موثر ہو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیپ سیک اور چیٹ جی پی ٹی دونوں کے تیار کردہ مواد کو پکڑنے کے طریقے کون سے ہیں تو دونوں کی تیار کردہ مواد کو پکڑنے کے مختلف طریقے ہیں جو ان کے فنکشنز اور استعمال کی نوعیت پہ منحصر ہیں ڈیپ سیک کے مواد کو پکڑنے کے لیے سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ اپ اس کے اوپن سورس ماڈلز یا ایپلیکیشنز کو استعمال کریں جو عام طور پہ عوامی سطح پہ دستیاب ہوتے ہیں چونکہ ڈیپ سی کے ایک اوپن سورس پلیٹ فارم ہے اس کے تیار کردہ مواد کو اس کی ایپلیکیشن یا ویب سائٹ سے براہ راست حاصل کیا جا سکتا ہے اگر اپ کسی ڈویلپر یا سارف کے طور پہ اس کی ایپلیکیشن کو استعمال کر رہے ہیں تو اپ اس کے نتائج اور مواد کو ریکارڈ یا محفوظ کر سکتے ہیں ڈیپ سیکھ کے مواد کو پکڑنے کی ایک اور صورت یہ ہے کہ اپ اس کی جو اے پی ائی ایس ہے یا دیگر دستیاب انٹرفیس ہیں اس کے ذریعے انٹریکٹ کریں جب اپ ڈی سی سیک سے کسی سوال یا درخواست پر جواب حاصل کرتے ہیں تو اس مواد کو اپ اپنے سسٹم میں سٹور کر سکتے ہیں جو اپ کی ضروریات کے مطابق ہو سکتا ہے جیسے کہ تجزیہ یا پروسیسنگ کے لیے چونکہ ڈیپ سیک چینی کمپنی کا پروڈکٹ ہے اس کے مواد کو پکڑنے کے سلسلے میں بعض اوقات انٹرنیٹ کی پابندیاں یا قانونی پیچیدگیاں پیش ا سکتی ہیں خاص طور پہ اگر اپ چین سے باہر کے سارے ہیں دوسری طپرف چیٹ جی پی ٹی کے مواد کا حصہ ہے تجارتی ماڈل ہے اور اس کا مواد عام طور پہ مخصوص ایپلیکیشنز اور اے پی ائی ایس کے ذریعے قابل رسائی ہوتا ہے اس کا اے پی ائی استعمال کرنے والے صارفین جو ایپلیکیشن کے ذریعے چیٹ جے پی ٹی کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں ان کے سوالات اور جوابات ریکارڈ یہ محفوظ کیے جا سکتے ہیں چونکہ چیٹ جی پی ٹی کی ایپلیکیشنز اور سروسز اکثر صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ کرتی ہیں اس لیے مواد پکڑنا یہ استعمال کرنا قانونی اور اخلاقی ضوابط کے تحت کیا جانا چاہیے اب چیٹ جی پی ٹی سے مواد حاصل کرنے کے لیے ایپلیکیشن یا ویب انٹرفیس کے ذریعے سوالات کر سکتے ہیں اور ان جوابات کو اپنے مقاصد کے لیے ذخیرہ یا تجزیہ کر سکتے ہیں اس حوالے سے دونوں پلیٹ فارمز کی مواد کو پکڑنے کا طریقہ ان کے استعمال کے اصولوں اور اجازتوں کے اوپر منحصر ہے اور صارفین کو ان سروسز کے شرائط و ضوابط کی پیروی کرتے ہوئے ان کے مواد کو استعمال کرنا چاہیے اب انے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہے کہ کون اس گارڈ میں اخر والی لائن تک پہنچتا ہے اور اس لائن پہ پہنچنے سے پہلے کون کون سے شاہ سوار گر جاتے ہیں

No comments:
Post a Comment