بابا گرو نانکؒ: سچائی، امن اور انسانیت کا پیامبر
ابتدائی تعلیم و تربیت:
بابا جی کے والد نے انہیں اعلیٰ تعلیم دلوانے کا بندوبست کیا اور انہیں ایک مسلمان استاد، سید حسن (جنہیں قطب الدین اور رکن الدین کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا) کے سپرد کیا۔ سید حسن نے ان کی فطری ذہانت کو بھانپ کر ان کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یوں بچپن ہی میں گرو نانک اسلامی عقائد، صوفیانہ تعلیمات اور روحانیت سے آشنا ہو گئے۔ وہ صوفیائے کرام کے کلام کو پڑھتے اور اسے پنجابی میں ترجمہ کر کے عام لوگوں تک پہنچاتے۔
فلسفہ اور عقیدہ:
بابا گرو نانکؒ نے توحید کے تصور کو اپنا مرکزِ عقیدہ بنایا۔ وہ بت پرستی کے سخت مخالف تھے اور ہمیشہ ایک خدا کی عبادت پر زور دیتے۔ "گرو گرنتھ صاحب" میں ان کے فرمودات توحید، عدل اور رحم پر مبنی ہیں:
"صاحب میرا ایکو ہے، ایکو ہے بھائی ایکو ہے
آپے مارے آپے چھوڑے، آپے لے، دیئے
جو کچھ کرنا سو کر رہیا، اور نہ کرنا جائی"
ترجمہ: میرا مالک ایک ہے، وہی دیتا ہے، وہی آزماتا ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ سب کچھ اسی کی مشیت سے ہوتا ہے۔
حضرت محمد ﷺ کا ذکر:
بابا گرو نانکؒ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کا احترام کرتے اور ان کی تعلیمات کو سراہتے تھے۔ ان کے کلام میں جگہ جگہ نبی کریم ﷺ کا ذکر آتا ہے:
"پاک پڑھھیوس کلمہ ہکس دا محمد نال زملائے
ہویا معشوق خدائے دا، ہویا تل علائے"
مذاہب کا احترام:
بابا جی چاروں آسمانی کتابوں (تورات، زبور، انجیل اور قرآن) کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید کو سب سے اعلیٰ کتاب قرار دیتے ہیں:
"دیکھ توریت، انجیل نوں، زبورے فرقان
ایہو چار کتب ہن، پڑھ کے ویکھ قرآن"
سیر و سیاحت اور روحانی سفر:
بابا گرو نانکؒ نے تیس سال کی عمر میں ملازمت اور دنیاوی زندگی کو خیرباد کہہ کر روحانیت کا راستہ چنا۔ انہوں نے چالیس سال تک سفر کیے، جن میں برصغیر، لنکا، ایران، افغانستان، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ شامل ہیں۔
ان کی زیارت گاہوں میں شامل ہیں:
حضرت بو علی قلندر پانی پتیؒ کی صحبت
حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے مزار پر حاضری
حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار پر چلہ
حضرت بابا ولی قندھاریؒ کی بیٹھک پر قیام
حضرت شیخ فریدؒ کے مزار پر خلوت
روحانی اثرات:
بابا جی پر اسلامی صوفیاء کا گہرا اثر تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیمات میں بھائی چارہ، خدمتِ خلق، اور مساوات کو مرکزی حیثیت دی۔ وہ مذہبی تفرقے کے خلاف تھے اور ہمیشہ ایک خدا، ایک انسانیت اور ایک سچائی کی بات کرتے۔ ان کا پیغام تھا:
"نہ کوئی ہندو نہ کوئی مسلمان، سب رب کے بندے"
انتقال:
بابا گرو نانکؒ 22 ستمبر 1539 کو کرتارپور (موجودہ پاکستان) میں وفات پا گئے۔ ان کی تعلیمات آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے دلوں کو روشنی فراہم کرتی ہیں۔
دلچسپ معلومات:
گرو نانکؒ کا پیغام صرف سکھوں تک محدود نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی میں پانچ بڑے سفر (جنہیں اُداسیاں کہا جاتا ہے) کیے، جن میں وہ حجاز (مکہ و مدینہ) تک بھی پہنچے۔
ان کے ابتدائی ساتھیوں میں ایک مسلمان شاعر اور موسیقار، بھائی مردانہؒ شامل تھے۔
گرو نانکؒ کی تعلیمات پر مبنی "گرو گرنتھ صاحب" کو سکھ مذہب کی مقدس کتاب کا درجہ حاصل ہے، جس میں دیگر مذاہب کے صوفیائے کرام کا کلام بھی شامل ہے۔
بابا گرو نانک کا پیغام وقت کی قید سے آزاد، اور ہر دور کے انسان کے دل کی آواز ہے۔ وہ وحدانیت، امن، سچائی، اور خدمت کا استعارہ ہیں۔ ان کی زندگی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

No comments:
Post a Comment