لاہور کی مصروف شاہراہ پر دن دہاڑے قتل اور انڈر ورلڈ کی نسل در نسل دشمنی
لاہور کی مصروف شاہراہ پر ایک دن دہاڑے ہونے والے قتل کا واقعہ سامنے آیا، جس کے تانے بانے شہر کی انڈر ورلڈ کی دہائیوں پرانی دشمنی سے ملتے ہیں۔ اس قتل کا نشانہ 60 سالہ محمد جاوید بنے، جنہوں نے اپنے بیٹے کے بچوں کو سکول سے لانے کے لیے گھر سے نکلتے ہوئے شاید نہیں جانا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔
قتل کی واردات کا واقعہ
تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد، محمد جاوید کی گاڑی لاہور کی مصروف کینال روڈ پر شاہ جمال کے قریب اشارے پر رکی۔ اسی وقت دو موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ محمد جاوید موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں۔
انڈر ورلڈ دشمنی کا پس منظر
لاہور پولیس کے بیان کے مطابق یہ قتل کوئی عام جرم نہیں تھا بلکہ اس کے تانے بانے شہر کی انڈر ورلڈ کی دہائیوں پرانی دشمنی سے جا ملتے ہیں، جس میں اب تک کئی افراد قتل ہو چکے ہیں۔ اس دشمنی میں ایک طرف ٹیپو ٹرکاں والا کا خاندان ہے اور دوسری طرف طیفی بٹ اور گوگی بٹ نامی کردار۔
محمد جاوید کا تعارف اور انڈر ورلڈ سے تعلق
محمد جاوید کون تھے اور ان کا انڈر ورلڈ سے کیا تعلق تھا؟ سی سی پی او لاہور بلال کمیانہ کے مطابق مقتول جاوید بٹ طیفی اور گوگی بٹ کے بہنوئی تھے۔ ان کی موت دشمنی کی بنیاد پر ہوئی، اگرچہ محمد جاوید کا براہ راست کسی گینگ وار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ایف آئی آر کا متن
اس واقعے کی ایف آئی آر مقتول کے بیٹے حمزہ جاوید کی مدعیت میں درج کی گئی، جس کے مطابق محمد جاوید اپنی اہلیہ کے ساتھ بچوں کو سکول سے لینے کے لیے نکلے تھے۔ جب ان کی گاڑی شاہ جمال کے اشارے پر رکی تو مسلح افراد نے سیدھی فائرنگ کی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
قتل کی فوٹیج اور پوسٹ مارٹم رپورٹ
واردات کے بعد منظر عام پر آنے والی فوٹیج میں محمد جاوید کو خون میں لت پت دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر پانچ گولیاں لگیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ان کی اہلیہ نے حملہ آوروں کو پہچان لیا، جو امیر بالاج کے بھائی اور دوست بتائے جاتے ہیں۔
امیر بالاج کا قتل اور دشمنی کی شدت
واضح رہے کہ امیر بالاج ٹیپو کو فروری میں قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے بھائی امیر مصعب نے الزام خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ اور خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ پر عائد کیا تھا۔ محمد جاوید کی موت کو بھی اسی سلسلے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
پولیس کا موقف
سی سی پی او بلال کمیانہ کا کہنا ہے کہ جاوید بٹ کو ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل کیا گیا اور یہ واقعہ امیر بالاج کے قتل سے جڑا ہوا لگتا ہے۔ تاہم، پولیس اس وقت شوٹرز کی تلاش میں ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
گینگ وار کے خدشات
بلال کمیانہ کے مطابق لاہور میں گینگ وار شروع ہونے کا کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم حالیہ چند دنوں میں ہونے والے دو قتل اس دشمنی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان تمام وارداتوں کے تانے بانے اندرون شہر سے شروع ہونے والی دشمنی سے جڑے ہوئے ہیں۔
تحقیقات جاری
پولیس اس وقت مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اصل ملزمان کی نشاندہی ہو سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ اس دشمنی کے پیچھے کون ہے



No comments:
Post a Comment