https://youtu.be/pbXb-MK_JMo
کراچی کے مزاحیہ فنکاروں کے بے تاج بادشاہ
زیر نظر پوسٹ میں آپ کو چار عظیم اداکار، فنکار، انٹرٹینرز اور کامیڈین نظر آرہے ہیں: فلم اسٹار لہری (سیٹ پر بیٹھے ہوئے)، عمر شریف، جو نیچے لہری کے ساتھ بیٹھے ہیں، بہروز سبزواری، جو دائیں طرف کھڑے ہیں، اور معین اختر، جو بہروز کے بائیں طرف کھڑے ہیں۔
یہ چاروں فنکار ایک زمانے کے معترف ہیں اور ان کی کامیڈی اور اداکاری کو سرحدوں کے اس پار بھی بے حد سراہا جاتا ہے۔ ان کے فن کے بارے میں کچھ کہنا، سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ میں ان کی شخصیت کا بھرپور احاطہ کرنے کی کوشش تو کر رہا ہوں، لیکن شاید یہ چند لائنیں ان کی خدمات کا مکمل حق ادا نہ کر سکیں۔ ہمارا بچپن، ہماری جوانی، اور اب ہماری ادھیڑ عمری، ان کی ہی جادوگری اور بے پناہ ٹیلنٹ کو دیکھتے اور انجوائے کرتے گزر رہی ہے۔ آج بھی جب دل کچھ افسردہ ہو جائے، تو ان کے شاہکار ڈرامے اور فلمیں ہی ہماری افسردگی کا علاج بن جاتے ہیں۔ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر ان کے کام کو دیکھنا ہمیشہ خوشی کا باعث بنتا ہے۔
**فلمسٹار لہری:**
لہری، جن کا اصل نام سفیر اللہ صدیقی تھا، 2 جنوری 1929ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔ منور ظریف اور آصف جاہ کے بعد، لہری نے فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانا ایک معرکے کے برابر سمجھا۔ وہ خود اپنی لائنیں لکھتے اور اپنی کامیڈی سچویشنز خود تخلیق کرتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کرکے، کراچی میں آبسے اور یہاں انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک اسٹینو ٹائپسٹ کے طور پر کیا۔
فن کی دنیا میں پہلا قدم انہوں نے اسلامیہ کالج کے ایک ڈرامے 'مریض عشق' میں پرفارمنس دے کر رکھا، جس سے ان کو بے انتہا پذیرائی ملی۔ 1955ء میں انہیں پہلی فلم 'انوکھی' میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کی پہلی فلم 1956ء میں ریلیز ہوئی اور ان کا فلمی کیریئر تیس سال پر محیط رہا، جس میں انہوں نے 220 فلموں میں کام کیا۔ 13 ستمبر 2012 کو اس عظیم انٹرٹینر کا انتقال ہوا
**عمر شریف:**
عمر شریف، جو 19 اپریل 1955ء کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے، پاکستانی تھیٹر، سٹیج، فلم اور ٹی وی کے وراسٹائل اداکار تھے۔ انہوں نے 14 سال کی عمر میں 1974ء میں سٹیج اداکاری سے کیریئر کا آغاز کیا اور 1980ء میں پہلی بار اپنے ڈرامے آڈیو کیسٹ پر ریلیز کیے۔ انہوں نے کامیڈی کا ایک منفرد انداز متعارف کرایا، جس میں عوامی لہجہ، انداز اور روزمرہ کے واقعات کا مزاحیہ تجزیہ شامل تھا۔
عمر شریف نے اداکاری اور میزبانی کے ساتھ لافٹر پروگرامز میں بطور جج بھی خدمات انجام دیں، جن میں بھارت کا مقبول ترین پروگرام 'دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج' شامل ہے۔ ان کے مشہور اسٹیج ڈراموں میں 'بکرا قسطوں پر' اور 'بڈھا گھر پر ہے' شامل ہیں۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں نگار ایوارڈ اور تمغا امتیاز سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ 2 اکتوبر 2021 کو ان کا انتقال ہوگیا۔
**معین اختر:**
معین اختر، 24 دسمبر 1950ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، ایک لیجنڈ فنکار تھے جنہوں نے کامیڈی، اداکاری، کمپیئرنگ سمیت فنون لطیفہ کی ہر فیلڈ میں اپنا لوہا منوایا۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1966ء میں پی ٹی وی سے کیا اور جلد ہی ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں 'روزی'، 'انتظار فرمائیے'، 'بندر روڈ سے کیماڑی' اور 'آنگن ٹیڑھا' شامل ہیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 22 اپریل 2011ء کو یہ ہر فن مولا اداکار دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔
**بہروز سبزواری:**
بہروز سبزواری، جنہیں 'قباچہ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 16 فروری 1957ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1968ء میں اپنی اداکاری کا آغاز کیا اور بچوں کے ڈرامے 'نانا جان دادا جان' سے شہرت حاصل کی۔ ان کی ملک گیر شہرت شوکت صدیقی کے ناول پر مبنی سیریل 'خدا کی بستی' سے شروع ہوئی، جس میں انہوں نے نوشہ کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر ڈراموں میں اداکاری کی اور آج بھی مختلف کرداروں میں نظر آتے ہیں۔ ان کی شاندار کارکردگی نے انہیں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔
یہ فنکار ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں اور ہمیں ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

good one
ReplyDelete