یہ مضمون شاید آپ کو جذباتی کر دے کیونکہ یہ ایک ایسےفنکار کی کہانی ہے جو بے حد مقبول تھا، لیکن وقت سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گیا۔عرفان خان، جن کا پورا نام صاحبزادہ عرفان علی خان تھا، 7 جنوری 1967 کو راجستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک روایتی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد کا کاروبار تھا۔ عرفان نے ابتدائی تعلیم راجستھان سے حاصل کی اور پھر نیشنل اسکول آف ڈراما (NSD) دہلی میں داخلہ لیا۔ NSD سے گریجویشن کے فوراً بعد، انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی پہلی فلم "سلام بومبے" (1988) اتفاقاً آسکر کے لیے نامزد ہوئی، حالانکہ ان کا کردار اس فلم میں مختصر تھا، لیکن یہ ان کے لیے فلمی دنیا میں ایک نمایاں آغاز ثابت ہوا۔اس کے بعد عرفان نے فلموں اور ٹی وی میں بے شمار کردار نبھائے، مگر کافی عرصے تک وہ ایک عام اداکار کی حیثیت سے جانے جاتے رہے، کوئی بڑا اسٹار یا ہیرو نہیں بن سکے۔ یہ کہنا شاید مبالغہ نہیں ہوگا کہ عرفان جیسے باصلاحیت اداکار کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں چودہ سال لگ گئے۔ ان کی پہلی بڑی پہچان 2003 میں فلم "حاصل" سے بنی، جس میں انہوں نے بھیا جی کا یادگار کردار نبھایا۔اس فلم کے ڈائریکٹر تگمانشو دھولیا تھے، جو NSD کے دنوں سے عرفان کو جانتے تھے اور ان کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ بھیا جی کے کردار میں عرفان کی اداکاری نے فلم بینوں کو حیران کر دیا اور یوں ان کا کیریئر تیزی سے آگے بڑھا۔تگمانشو دھولیا عرفان کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "عرفان سے بہتر اداکار بھارت میں پیدا نہیں ہوا، یا کم از کم اس وقت تو نہیں ہے۔"اس کے بعد عرفان نے "مقبول" (2004)، "روگ" (2005)، "دی نیم سیک" (2006)، "لائف ان اے میٹرو" (2007)، "پن سنگھ تومر" (2012)، اور "لنچ باکس" (2013) جیسی فلموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان کی اداکاری کا معیار اتنا بلند تھا کہ وہ نہ صرف بھارت بلکہ ہالی ووڈ میں بھی پہچانے جانے لگے۔ ہالی ووڈ میں انہوں نے "Slumdog Millionaire" (2008)، "The Amazing Spider-Man" (2012)، "Life of Pi" (2012)، "Jurassic World" (2015) اور "Inferno" (2016) جیسی فلموں میں کام کیا۔عرفان خان کی ذاتی زندگی بھی دلچسپ تھی۔ ان کی شادی ستاپا سکدر سے ہوئی، جو خود بھی NSD کی فارغ التحصیل تھیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں، بابِل اور ایان۔ عرفان ہمیشہ اپنے خاندان کے قریب رہے اور ان کے ساتھ گزرے لمحات کو بے حد اہمیت دیتے تھے۔عرفان خان کی زندگی کے کچھ واقعات دل چھونے والے ہیں۔ ایک بار کپل شرما کے شو میں یہ بات سامنے آئی کہ 1993 میں جب "جراسک پارک" ریلیز ہوئی تو عرفان کے پاس اس فلم کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے نہیں تھے، جس کی وجہ سے وہ فلم دیکھنے سے محروم رہے۔ لیکن بیس سال بعد جب اس فلم کا چوتھا حصہ "جراسک ورلڈ" بنایا گیا تو عرفان نے اس فلم میں جراسک پارک کے مالک کا کردار نبھایا۔عرفان کی فنی صلاحیتوں کا اندازہ اس واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ فلم "قصور" کی شوٹنگ کے دوران مہیش بھٹ نے انہیں کہا کہ "عرفان، تھوڑی اوور ایکٹنگ کرو"، عرفان نے جواب دیا، "بھٹ صاحب، میں سمجھا نہیں"، تو مہیش بھٹ نے کہا کہ "جو تم کر رہے ہو، وہ بہت زیادہ نیچرل لگ رہا ہے، کم از کم آڈینس کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ تم اداکاری کر رہے ہو۔"عرفان کی زندگی کی یہ کہانی شاید آپ کو جذباتی کر دے گی۔ 2018 کے اوائل میں عرفان کو برین ٹیومر کا پتہ چلا اور علاج کے لیے وہ لندن چلے گئے۔ دو سال کی جدو جہد کے باوجود ڈاکٹرز انہیں بچانے میں ناکام رہے اور 29 اپریل 2020 کو یہ عظیم فنکار اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ان کی موت کے بعد بھی اسی سال کے فلم فیئر بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ انہیں دیا گیا، جو ان کی فلم "انگریزی میڈیم" (2020) کے لیے تھا۔عرفان خان کا سفر گمنامی سے شہرت اور پھر آخرت تک کا تھا، جو اتنی جلدی طے ہوا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ آج بھی ان کی فلمیں دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ عظیم فنکار اب دوبارہ اسکرین پر نظر نہیں آئے گاعرفان... ہم آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
.jpeg)
No comments:
Post a Comment