"تجارت کی دنیا کا سب سے پراسرار راز!" 📢
🚨 برصغیر کی وہ برادری جس کی دولت، عقائد اور روایات صدیوں سے راز میں لپٹی ہوئی ہیں!
🧐 کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسی خفیہ برادری موجود ہے جو اپنا مذہب، عقائد اور کاروباری حکمتِ عملی عام لوگوں سے چھپاتی ہے؟
⚡ کیوں بوہروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تاریخ کے
سب سے منفرد تاجر ہیں؟
⏳ ایک ایسی برادری جو ہندو مت سے اسلام میں آئی، اور پھر بھی صدیوں سے اپنی اصل پہچان کو پراسرار رکھے ہوئے ہے!
💰 کیا ان کے پاس چھپے ہوئے خزانے ہیں؟ کیا یہ واقعی عام مسلمانوں سے مختلف ہیں؟
📜 تاریخ کی ایک ایسی گتھی جسے آج تک کوئی پوری طرح نہیں سلجھا سکا!
بوہرہ برصغیر کے ایک منفرد تجارتی برادری ہیں، جو اسماعیلی فرقے کی شاخ "دعوتِ طیبی" کے پیروکار ہیں۔ ان کا نام گجراتی لفظ "پیوپار" سے نکلا ہے، جس کے معنی تاجر کے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برہمنوں میں بھی ایک ذات "بوہرہ" کہلاتی ہے، جو کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ بوہروں کی اکثریت گجرات، بمبئی، برہانپور، مالوہ، راجپوتانہ اور کراچی میں آباد ہے، جبکہ ان کے مذہبی پیشوا (داعی) کا اصل مسکن سورت تھا، مگر بعد میں وہ بمبئی منتقل ہو گیا۔
بوہرہ، مستعلیہ طیبیہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یمن، بھارت، افریقا، الجزائر اور پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ اسماعیلی ہیں جو ہندو مت چھوڑ کر اسلام قبول کر چکے تھے۔ ان کا نام گجراتی لفظ "ووہرہ" سے اخذ کیا گیا ہے، جو ہندو ذات سے منسوب تھا اور اس کا مفہوم بھی تاجر ہے۔ مغربی ہندوستان میں ہندو اور سنی بوہرے بھی موجود ہیں، جو عمومی طور پر تجارت سے وابستہ ہیں اور شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔
برصغیر سے باہر بھی بوہرہ برادری نے اپنی شناخت قائم رکھی ہے۔ افریقا، الجزائر اور عرب ممالک، خاص طور پر مسقط میں بھی ان کی تجارتی سرگرمیاں وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔
تاریخی طور پر، بوہروں کے عقائد کی بنیاد فاطمی خلافت کے ایک اہم واقعے پر ہے۔ خلیفہ مستعلی باللہ کے دو بیٹوں، نزار اور آمر، کے درمیان خلافت کے حصول کی جنگ ہوئی، جس میں نزار قتل کر دیا گیا، اور آمر تخت نشین ہوا۔ نزار کے حامیوں کا ماننا ہے کہ وہ مصر سے فرار ہو کر حسن بن صباح کے ساتھ ایران چلا گیا، اور اس کے پیروکار بعد میں نزاری کہلائے، جو آگے چل کر آغا خانی کے نام سے معروف ہوئے۔
آمر کو نزاریوں نے قتل کر دیا۔ طیبوں کے مطابق، آمر کی وفات کے بعد اس کی ایک بیوی سے بیٹا طیب پیدا ہوا، جسے دشمنوں کے خوف سے چھپا دیا گیا۔ طیب اور اس کی نسل کو "ائمہ مستور" کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے بارے میں عام لوگوں کو معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ تاہم، طیبی داعیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں ان ائمہ کی تائید حاصل رہی ہے، اور بعض داعیوں کے مطابق، انہیں امام کے خطوط بھی موصول ہوتے رہے۔
طیبی سلسلے میں ہمیشہ ایک داعی مطلق مقرر ہوتا تھا۔ 26ویں داعی مطلق، داؤد بن عجب شاہ، کی 1997 میں وفات کے بعد، برہان الدین بن قطب شاہ 27ویں داعی بنے۔ اس فیصلے کو یمن میں موجود مستعلیہ طیبیہ (بوہروں) تک پہنچایا گیا، لیکن چار سال بعد داؤد بن عجب شاہ کے یمن میں مقرر کردہ والی، سلیمان بن حسن، نے خود کو جانشین قرار دے دیا اور داعی مطلق ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس اختلاف کے نتیجے میں بوہروں کے دو علیحدہ دھڑے وجود میں آ گئے— یمن میں سلیمانی بوہرہ اور بھارت میں داؤدی بوہرہ۔ ہر گروہ نے اپنا الگ مذہبی اور سماجی نظام بنا لیا، جو آج تک قائم ہے۔
یوں، بوہروں کی تاریخ محض ایک مذہبی سفر نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور دلچسپ داستان ہے، جس میں خلافت، تجارت، ہجرت، اور عقائد کے مختلف رنگ شامل ہیں۔ ان کی شناخت ایک مضبوط تجارتی برادری کے طور پر برقرار ہے، جو دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکی ہے
اسماعیلی، دوسرے شیعہ فرقوں کی طرح، اپنے امام کو خدائی اختیار کا حامل سمجھتے ہیں۔ ان کے عقیدے کے مطابق، ہر نبی کا ایک وصی (جانشین) ہوتا ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی حضرت علی تھے۔ قیامت تک تمام امام انہی کی نسل سے ہوں گے۔ امام کی وراثت ضروری نہیں کہ بڑے بیٹے کو ملے، بلکہ وہی امام بنے گا جس کے لیے پہلے امام نے نص (واضح حکم) دیا ہو۔
امام کبھی ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی دشمنوں کے خوف سے پردے میں چلے جاتے ہیں، لیکن دنیا امام کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی۔ جب امام سامنے آتے ہیں تو اپنے پیروکاروں سے داعیوں (مذہبی مبلغین) کے ذریعے رابطہ رکھتے ہیں اور انہیں مذہبی تعلیمات دیتے ہیں۔ امام کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مذہبی احکام میں رد و بدل کرے کیونکہ ان کے نزدیک اصل اہمیت "باطن" کی ہوتی ہے، اور اس کی مختلف تاویلات کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ان کے مذہبی فرائض میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ لیکن جب امام پردے میں چلے جاتے ہیں تو ان کے پیروکار ظاہری عبادات پر عمل کرتے ہیں۔
طیب امام کے غیبت میں جانے کے بعد، اسماعیلی دعوت یمن کے داعیوں نے جاری رکھی، اور بعد میں یہ ہندوستان منتقل ہو گئی۔
بوہروں کے لیے یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ ان کا امام مستور (غیبت میں) ہے۔ اس دوران داعی، امام کے حکم سے اس کے جانشین بنتے ہیں۔ ان کی سب سے اہم مذہبی کتاب قرآن ہے، مگر صرف داعی ہی اس کے باطنی مفہوم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ حدیث اور سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے دینی ماخذ میں شامل ہیں۔ بوہرے اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں، مگر ان کے نزدیک خدا کا تصور انتہائی مجرد اور انسانی سوچ سے ماورا ہے۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، اور اپنے داعی کو رسول کی صلاحیتوں کا حامل سمجھتے ہیں۔
بوہرے اپنی مذہبی کتابیں غیر طیبیوں کو نہیں دکھاتے اور نہ ہی کسی غیر مذہب کے فرد سے اپنے عقائد پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ مذہبی مباحثوں میں بھی شامل نہیں ہوتے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق جو ایسا کرے گا، وہ امام الزماں کی زیارت سے محروم رہ جائے گا۔ انہیں اپنی مذہبی معلومات دوسروں سے چھپانے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ خیال ہے کہ اگر وہ اپنے عقائد دوسروں پر ظاہر کریں گے تو لوگ اعتراض کریں گے، جس سے ان کے ماننے والوں کے دلوں میں بھی شک پیدا ہوسکتا ہے اور ان کے اندرونی اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔
بوہروں کے مذہب میں یونانی فلسفے (یعنی قدیم یونان کے دانشوروں کی باتوں) کا بھی اثر ہے۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ اللہ کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، کوئی دوسرا اس کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ ان کے عقیدے میں "عقل" (سمجھ بوجھ) بہت اہم ہے، اور وہ مانتے ہیں کہ سب سے پہلی عقل اللہ نے خود بنائی، اور پھر اس سے باقی عقلیں وجود میں آئیں۔
بوہرے دعا کرتے ہوئے اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ "عقلِ اول" (پہلی عقل) اور "عقلِ دوم" (دوسری عقل) کے ذریعے اللہ کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ نے ایک خاص، بہت عظیم ہستی پیدا کی، جس کا جسم کسی مادی چیز سے نہیں بنا، اور اسی ہستی کی وجہ سے آسمانوں اور زمین میں حکمت (سمجھ بوجھ) آئی۔
بوہرے یہ بھی مانتے ہیں کہ کچھ خاص ہستیاں (جنہیں وہ "عقول" کہتے ہیں) اللہ کے حکم کو فوراً مانتی ہیں اور دنیا کو سنبھالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ایک خاص وقت پر ان ہستیوں کا دور ختم ہو جائے گا اور ان کی جگہ نئی ہستیاں آئیں گی، جو اللہ کے احکام پر عمل کریں گی۔
مختصر یہ کہ بوہروں کے عقیدے میں اللہ، عقل اور خاص روحانی ہستیوں کا بہت اہم کردار ہے، اور وہ ان سب کے ذریعے اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
بوہرے، جو کہ شیعہ فرقے میں شامل ہیں، یہ مانتے ہیں کہ جو قرآن آج ہمارے پاس موجود ہے (جسے "مصحفِ عثمانی" کہا جاتا ہے) اس میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں، یعنی اصل قرآن میں کچھ حصے کم یا زیادہ کیے گئے ہیں۔
بوہروں کے عقیدے کے مطابق، قرآن کے موجودہ نسخے میں 10 سپارے (پارے) نہیں ہیں، جو کہ حضرت علی کے پاس تھے۔ ان کے مطابق، ان غائب سپاروں میں اہل بیت (یعنی حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن، امام حسین اور ان کی اولاد) کے بارے میں تفصیلی ذکر تھا۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ حضرت علی نے یہ سپارے اس لیے عام لوگوں کو نہیں دیے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر یہ لوگوں تک پہنچ گئے تو دشمن انہیں ضائع کر دیں گے۔
بوہرے یہ بھی مانتے ہیں کہ کچھ خاص شیعہ بزرگوں کے پاس یہ گمشدہ 10 سپارے موجود ہیں۔ تاہم، جب تک یہ سپارے عام نہیں ہوتے، تب تک موجودہ قرآن (مصحفِ عثمانی) کو ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
داؤدی بوہروں میں کئی گروہوں جیسے علوی، قطبی، اور ہیبتی کے اختلافات ہیں۔ پاکستان و بھارت میں داؤدیوں کی اکثریت ہے۔ گجرات کی اسلامی سلطنت کے دور میں کچھ بوہرہ سنی ہوئے اور صغیری بوہرہ کہلائے، جن کا رہنما "ملا جی" ہے۔
1. علوی بوہرہ
بوہروں کے فرقے میں اختلاف تب پیدا ہوا جب 29ویں داعی مطلق (عبد الطیب زکی الدین) کے بارے میں ایک شخصیت علی بن ابراہیم نے اختلاف کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اصل "داعی مطلق" (یعنی مذہبی رہنما) وہ ہیں، اور اس وجہ سے انہوں نے اپنی ایک الگ جماعت بنا لی، جسے علوی بوہرہ کہا جاتا ہے۔
• علوی بوہرہ کہاں رہتے ہیں؟
ان کا مرکز گجرات کا برودہ علاقہ ہے۔
• علوی بوہرہ داؤدی بوہروں سے شادی نہیں کرتے۔
• ان کے موجودہ مذہبی رہنما 1980 سے ابو حاتم طیب ضیاء الدین ہیں۔
• علوی بوہرہ میں ایک گروہ "ناگوشہ بوہرہ" بھی ہے، جو سبزی خور ہیں، گوشت نہیں کھاتے، ہندی رسوم پر عمل کرتے ہیں، اور اسلام کو نہیں مانتے۔
________________________________________
2. سلیمانی بوہرہ
یہ ایک اور بوہرہ ذیلی فرقہ ہے، جو یمن کے شمال مشرقی علاقے نجران میں رہا کرتا تھا۔ ان کا مذہبی رہنما "سلیمانی داعی مطلق" کہلاتا ہے، اور ان کے قائد یمنی قبیلے "بنو یام" کے "مکرمی" خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
• یمن کا نجران علاقہ 1930 میں سعودی عرب میں شامل ہوگیا۔
• سلیمانی بوہرہ کے موجودہ 49ویں داعی مطلق (مذہبی پیشوا) شرفی حسین بن حسن مکرمی ہیں، جو 1976ء سے اس عہدے پر ہیں۔
• سلیمانی بوہرہ کی کل آبادی 70,000 سے زیادہ نہیں۔
• یہ زیادہ تر یمن میں رہتے ہیں، اور برصغیر میں کچھ ہزار سلیمانی بوہرہ موجود ہیں، خاص طور پر ممبئی، برودہ، احمد آباد، اور حیدرآباد دکن میں۔
• پاکستان میں بھی ان کی تھوڑی سی تعداد موجود ہے
بوہرہ برادری کے مذہبی عقائد اور رسوم
بوہرہ برادری میں امام مذہبی امور کی قیادت کرتا ہے، اور داعی کا تقرر بھی امام کی منظوری سے کیا جاتا ہے۔ جب امام مستور (غیبت میں) ہوتا ہے تو داعی دعوت کی قیادت سنبھالتا ہے۔ اس وقت دعوتِ طیبی کے امام مستور ہیں، اس لیے قیادت داعی کے ہاتھ میں ہے۔ داعی کا جانشین ضروری نہیں کہ اس کا بیٹا ہو، بلکہ امام کی الہام سے نئے داعی کا تقرر کیا جاتا ہے۔ بوہرے داعی کو امام الزمان کا قائم مقام سمجھتے ہیں، اور ان کا احترام امام کی عزت کے مترادف تصور کرتے ہیں۔
داعی کی حیثیت اور عقیدت
بوہرہ برادری میں داعی کا انتہائی احترام کیا جاتا ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق جو داعی کا تصور کرتا ہے، اسے امام کی زیارت حاصل ہو جاتی ہے۔ داعی کی خدمت میں لوگ ننگے پاؤں دوڑتے ہیں، ان کے سامنے دست بستہ کھڑے رہتے ہیں، اور اجازت ملنے تک بیٹھنے کی جسارت نہیں کرتے۔ داعی کے وضو کا پانی لوگ عقیدت سے پیتے ہیں اور ان کے قدموں کی خاک سرمہ کی طرح آنکھوں میں لگاتے ہیں۔ ان کے عقیدت مند پکار کر انہیں "مولا" کہہ کر پکارتے ہیں۔
مذہبی عہدے اور فرقے
بوہروں میں مختلف مذہبی عہدے ہوتے ہیں، جن میں ماذون، مکاسرہ، مشایخ، ملا، عامل، اور میاں صاحب شامل ہیں۔ ان کے اندر بھی کئی فرقے موجود ہیں، جن میں داؤدیہ، سلمانیہ، اور مہدی باغ والے زیادہ معروف ہیں، جو داعیوں کے اختلافات کے نتیجے میں وجود میں آئے۔
عقائد اور عبادات
بوہرہ برادری کے عقائد فاطمی نظریات کے تابع ہیں اور ان کے نزدیک نجات کا واحد راستہ امام کی پیروی ہے۔ موت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اور نیک بوہرہ مومن کی روح خدا سے جا ملتی ہے۔
نماز
بوہروں کی نماز شیعہ عقائد کے برعکس اول وقت میں ادا کی جاتی ہے۔ دن میں تین مرتبہ نماز پڑھتے ہیں:
• فجر
• ظہر و عصر (ایک ساتھ)
• مغرب و عشاء (ایک ساتھ)
مسجد میں عورتوں کے لیے علیحدہ حصہ مخصوص ہوتا ہے۔ نماز کی قیادت عامل کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جو داعی کی طرف سے مقرر ہوتا ہے۔ کوئی اور شخص بغیر اجازت نماز نہیں پڑھا سکتا۔ عامل کے قریب بیٹھنے والوں کو زیادہ معزز سمجھا جاتا ہے، اور لوگ ان نشستوں کے حصول کے لیے بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔
روزہ اور حج
بوہرے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی عید بھی دوسروں سے پہلے ہوتی ہے۔ عشرہ محرم اور حج کے مراسم بھی چند دن قبل مکمل کر لیتے ہیں، اور یہ سب انتہائی رازداری سے انجام دیا جاتا ہے۔
بوہروں کے روزے رمضان کے مکمل تیس دن ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہر مہینے کی پہلی اور آخری تاریخ، ہر جمعرات، اور مہینے کے وسط میں بدھ کے روز بھی روزہ رکھتے ہیں۔
زکوٰۃ اور نذرانے
بوہروں پر چھ طرح کی زکوٰۃ واجب ہے:
1. زکوٰۃ صلات: ہر فرد پر چار آنے لازم ہیں۔
2. زکوٰۃ فطرہ: اس کی مقدار بھی چار آنے ہے۔
3. زکوٰۃ حق النفس: عروج ارواح اموات کے لیے 119 روپے مقرر ہیں۔
4. زکوٰۃ حق نکاح: ازدواجی حقوق کے طور پر 11 روپے دیے جاتے ہیں۔
5. زکوٰۃ سلامی سیدنا: داعی مطلق کے لیے نقد تحفے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے۔
6. زکوٰۃ دعوت: یہ تین طرح کی ہوتی ہے:
o کاروباری ٹیکس، جو تاجر برادری سے لیا جاتا ہے۔
o خمس، جو متوقع آمدنی کا پانچواں حصہ ہوتا ہے۔
o وہ لوگ جو بیماری کی وجہ سے نماز اور روزہ ادا نہیں کر سکتے، ان پر یہ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
7. نذر مقام: امام غائب کی نذر کے لیے مخصوص رقم جمع کی جاتی ہے۔
زیارت اور مقدس مقامات
بوہروں کے نزدیک حج ہر صاحب استطاعت فرد پر واجب ہے، اور اس سے پہلے قسم میثاق لینا ضروری ہے۔ مکہ مکرمہ کے علاوہ، بوہرہ عقیدت مند کربلا، نجف، اور قاہرہ کی زیارت بھی کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ان کی معروف زیارت گاہیں احمد آباد، سورت، جام نگر، مانڈوی، اجین، اور برہانپور میں ہیں۔
کلینڈر اور سال کی تقسیم
بوہرہ کلینڈر عام اسلامی ہجری کلینڈر سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق:
• سال کے 12 مہینے ہوتے ہیں، جن میں 6 مکمل (30 دن کے) اور 6 نامکمل (29 دن کے) ہوتے ہیں۔
• محرم مکمل ہوتا ہے، صفر نامکمل، اسی طرح دیگر مہینوں کی تقسیم کی جاتی ہے۔
• کاروباری حساب کتاب کے لیے ہندی مہینوں اور تاریخوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
معاشرتی زندگی اور زبان
بوہروں کی مذہبی زبان عربی ہے، جبکہ عام افراد اردو اور گجراتی بولتے ہیں۔ بوہروں میں مذہبی بحث و مباحثے سے اجتناب برتا جاتا ہے، اور ان کی مقدس کتابیں غیر مذہب کے افراد کو دکھانا ممنوع ہے۔ پہلے بوہرے مرد داڑھی رکھتے تھے، لیکن اب کچھ افراد داڑھی منڈوانے کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
بوہرہ برادری کی روایات اور عقائد ان کے فاطمی پس منظر سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کے مذہبی معاملات مکمل طور پر داعی اور امام کی ہدایت کے تحت ہوتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment