راجستھان اور گجرات میں ایک ایسا سماج بھی ہے جہاں خواتین کو اپنے شوہر کے انتخاب میں اتنی آزادی ہے ، جسے جان کر مردوں کے پسینے چھوٹ جائیں گے یا نہیں۔
نئی دہلی: راجستھان اور گجرات میں ایک ایسا سماج بھی ہے جہاں خواتین کو اپنے شوہر کے انتخاب میں اتنی آزادی ہے ، جسے جان کر مردوں کے پسینے چھوٹ جائیں گے ۔ ہم بات کر رہے ہیں گارسیا برادری کی ۔ دراصل اگر عورت چاہے تو ہر سال اپنا ہم سفر بدل سکتی ہے۔ شادی اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ آیا مرد اسے حاملہ کر سکے گا یا نہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ گارسیا قبیلے میں خواتین پہلے ایک سال تک کسی مرد کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں رہتی ہیں۔ اس کے بعد اولاد ہونے کے بعد ہی شادی کو مستقل سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو عورت اگلے سال کسی نئے مرد کا انتخاب کرتی ہے ۔ بھلے ہی ملک میں لیو ان ریلیشن شپ کو سماج مخالف سمجھا جاتا ہو، لیکن اس سماج میں یہ رواج عام ہے۔
راجستھان کے ادے پور، سروہی اور پالی اضلاع کے علاوہ گجرات کے کچھ حصوں میں بھی گراسیا برادری رہتی ہے۔ اب ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ راجستھان جیسی ریاست میں جہاں کئی سماج میں خواتین کو گھونگھٹ سے باہر آنے کی بھی آزادی نہیں ہے۔ ایسے میں گراسیا سماج خواتین کے تئیں اتنا کھلا نظریہ والا کیسے ہے؟

No comments:
Post a Comment