وسیم اکرم (پیدائش: 3 جون 1966ء، لاہور، پنجاب) کو دنیا کے عظیم ترین فاسٹ باؤلرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ کئی ناقدین انہیں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے اہم بائیں ہاتھ کا فاسٹ باؤلر مانتے ہیں۔
وسیم اکرم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ایک روزہ کرکٹ میں 500 سے زیادہ وکٹیں لینے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 356 ایک روزہ میچوں میں 502 وکٹیں حاصل کیں۔
وسیم اکرم کو "سلطان آف سوئنگ" کا لقب دیا گیا، کیونکہ وہ ریورس سوئنگ باؤلنگ میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کے باؤلنگ کیریئر کی اوسط 23.62 (ٹیسٹ)، 23.52 (ون ڈے) رہی اور ان کی بہترین باؤلنگ کارکردگی 7/119 (ٹیسٹ) اور 5/15 (ون ڈے) تھی۔
وسیم اکرم پر 1992 میں انگلش میڈیا کی جانب سے بال ٹیمپرنگ کے الزامات لگائے گئے، جو ثابت نہ ہوسکے۔ بعد میں ان پر میچ فکسنگ کا الزام لگا، جس کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج ملک قیوم کی سربراہی میں ہونے والی کمیشن میں کی گئیں، اور وسیم کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا گیا۔
وسیم نے پاکستان کے لیے 1984 سے 2003 تک کرکٹ کھیلی۔
ٹیسٹ ڈیبیو: 25 جنوری 1985 بمقابلہ نیوزی لینڈ
آخری ٹیسٹ: 9 جنوری 2002 بمقابلہ بنگلہ دیش
ون ڈے ڈیبیو: 23 نومبر 1984 بمقابلہ نیوزی لینڈ
آخری ون ڈے: 4 مارچ 2003 بمقابلہ زمبابوے
ڈومیسٹک کرکٹ میں، انہوں نے مختلف ٹیموں کے لیے کھیلتے ہوئے کئی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں پاکستان آٹوموبائلز کارپوریشن، لاہور، لنکا شائر، پی آئی اے اور ہمپشائر شامل ہیں۔
2003 کے ورلڈ کپ کے دوران، وسیم اکرم ون ڈے کرکٹ میں 500 وکٹیں مکمل کرنے والے پہلے بولر بنے۔ 2002 میں، وزڈن نے انہیں ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا سب سے عظیم بولر قرار دیا۔
وسیم اکرم نے 356 ون ڈے میچوں میں 23 مرتبہ چار وکٹیں لیں اور ان کی کارکردگی نے انہیں کرکٹ کی دنیا میں ایک لیجنڈ بنایا۔
30 ستمبر 2009 کو، وسیم اکرم آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیے جانے والے پانچ نئے کھلاڑیوں میں سے ایک بنے۔




No comments:
Post a Comment