Adnan Mirza Official

Smart ideas for a digital world.

Monday, September 23, 2024

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ سب سے بڑا ظلم کیا کرتے ہیں

 کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ سب سے بڑا ظلم کیا کرتے ہیں؟ ہم ان کے سامنے "عقل مند" بن جاتے ہیں، "سمجھدار" ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور خود کو بڑا "نیک اور پرہیزگار" سمجھنے لگتے ہیں۔ وہی والدین جنہوں نے ہمیں زندگی کے اصول سکھائے، ہم انہی کو زندگی کے اسباق پڑھانے لگتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں: "ابا جی، یہ نہ کریں، یہ غلط ہے۔"

"اماں جی، آپ کو تو کچھ پتا نہیں، یہ کیسے کیا؟"

"آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کام ایسے نہیں ہوتا؟"

"ابا جی، آپ یہاں کیوں گئے؟"

"اماں جی، آپ نے پھر گڑبڑ کر دی۔"

"آپ تو ہر کام خراب کر دیتی ہیں، اب میں آپ کو کیسے سمجھاؤں؟"

ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ہمارا یہ "بڑا پن" اور "سمجھداری" ہمارے اندر کے احساس کو مار دیتی ہے۔ وہ احساس جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمارے والدین اب بچے بن چکے ہیں۔ وقت کے ساتھ، وہ ذہنی الجھنوں سے آزاد ہو رہے ہیں، اور انہیں اب صرف چھوٹی چھوٹی خوشیوں، تھوڑے سے پیار، اور ہلکی سی مسکراہٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ خوش رہ سکیں۔

ان کو ان کے "اختیارات" سے محروم نہ کریں۔

سننے کا اختیار،

کہنے کا اختیار،

ڈانٹنے کا اختیار،

اور پیار کرنے کا اختیار۔

یہی ان کی خوشیوں کی دنیا ہے، جو چھوٹی سی ہے۔ ہمارے تلخ رویے انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اب وقت ان کا نہیں رہا۔ وہ اپنے خول میں قید ہونے لگتے ہیں اور پھر مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس لیے، اگر والدین کو خوش رکھنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے "سمجھدار" نہ بنیں۔ ان کے ساتھ بچے بن کر رہیں، تاکہ آپ خود بھی دل سے "بچے" رہیں۔

❤ میں انہیں خانوں میں کیسے بانٹوں جو میری عمرِ رواں کے دن ہیں؟ تمام دن میرے والد کے ہیں اور

 تمام دن میری م

اں کے ہیں۔ ❤


No comments:

Post a Comment

© 2026 adnanmirza103.blogspot.com. All Rights Reserved.