ہم کہتے ہیں: "ابا جی، یہ نہ کریں، یہ غلط ہے۔"
"اماں جی، آپ کو تو کچھ پتا نہیں، یہ کیسے کیا؟"
"آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کام ایسے نہیں ہوتا؟"
"ابا جی، آپ یہاں کیوں گئے؟"
"اماں جی، آپ نے پھر گڑبڑ کر دی۔"
"آپ تو ہر کام خراب کر دیتی ہیں، اب میں آپ کو کیسے سمجھاؤں؟"
ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ہمارا یہ "بڑا پن" اور "سمجھداری" ہمارے اندر کے احساس کو مار دیتی ہے۔ وہ احساس جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمارے والدین اب بچے بن چکے ہیں۔ وقت کے ساتھ، وہ ذہنی الجھنوں سے آزاد ہو رہے ہیں، اور انہیں اب صرف چھوٹی چھوٹی خوشیوں، تھوڑے سے پیار، اور ہلکی سی مسکراہٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ خوش رہ سکیں۔
ان کو ان کے "اختیارات" سے محروم نہ کریں۔
سننے کا اختیار،
کہنے کا اختیار،
ڈانٹنے کا اختیار،
اور پیار کرنے کا اختیار۔
یہی ان کی خوشیوں کی دنیا ہے، جو چھوٹی سی ہے۔ ہمارے تلخ رویے انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اب وقت ان کا نہیں رہا۔ وہ اپنے خول میں قید ہونے لگتے ہیں اور پھر مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس لیے، اگر والدین کو خوش رکھنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے "سمجھدار" نہ بنیں۔ ان کے ساتھ بچے بن کر رہیں، تاکہ آپ خود بھی دل سے "بچے" رہیں۔
❤ میں انہیں خانوں میں کیسے بانٹوں جو میری عمرِ رواں کے دن ہیں؟ تمام دن میرے والد کے ہیں اور
تمام دن میری م
اں کے ہیں۔ ❤

No comments:
Post a Comment