Adnan Mirza Official

Smart ideas for a digital world.

Friday, August 30, 2024

پاکستان کے معروف کرکٹر محمد یوسف کہتے ہیں


 پاکستان کے معروف کرکٹر محمد یوسف کہتے ہیں:"یہ وہ محلہ ہے جہاں میں پلا بڑھا۔ بچوں کے ساتھ جرابوں کی گیند بنا کر دھوبی گھاٹ پر کپڑے دھونے والے ڈنڈے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے میری بیک لفٹ اونچی تھی۔ پہلی بار کرکٹ کلب میں داخلہ اس شرط پر ملا کہ میں سب سے پہلے آ کر وکٹ اور گراؤنڈ میں صفائی کیا کروں گا۔ اس کے علاوہ سینئر کھلاڑیوں کے لیے نیٹ نصب کرنے کی ذمہ داری بھی میری تھی۔یہ جو بھائی اس تصویر میں نظر آ رہے ہیں، ان کا نام ظہیر ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو ہمارے کلب کا کپتان تھا۔ ظہیر نے کلب انتظامیہ سے لڑ کر مجھے ٹیم میں کھلانے کی کوشش کی تھی۔ جب کلب انتظامیہ مجھے کھلانے پر آمادہ نہ ہوئی، تو ظہیر نے خود کو ڈراپ کر لیا اور اپنی جگہ مجھے چانس دے دیا۔ یہی نہیں بلکہ ظہیر نے میچ کے لیے مجھے اپنی کٹ بھی دے دی۔ میں نے اس دن ریلوے کالونی کے درزی کی اس دکان سے چھٹی کر لی تھی، جہاں میں کام سیکھنے جایا کرتا تھا۔ میں نے میچ میں ظہیر بھائی کی لاج رکھی اور سنچری اسکور کی۔ اس دن کے بعد سے کلب انتظامیہ نے کبھی مجھے میچ سے ڈراپ نہیں کیا۔ظہیر کچھ عرصہ پہلے کینسر کا شکار ہو گیا تھا مگر الحمدللہ اب وہ صحت یاب ہو کر واپس آ چکا ہے۔ ظہیر نے صحت یاب ہونے کے بعد مجھے فون کرکے خوش خبری دی، تو میں فوراً اس سے ملنے چلا آیا۔ ظہیر کہتا ہے کہ یوسف، تم نے میرے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کر دیے، میرے بچے بھی تمہارے احسان مند رہیں گے۔ میں نے جواب دیا، 'ظہیر بھائی، میں آج تک آپ جتنا امیر نہیں بن سکا کیونکہ آپ نے میری مدد اس وقت کی جب آپ کے پاس کچھ نہیں تھا، جبکہ میں نے آپ کی مدد اس وقت کی جب میرے پاس سب کچھ تھا۔'"


No comments:

Post a Comment

© 2026 adnanmirza103.blogspot.com. All Rights Reserved.